اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ان خیالات کا اظہار "علی اصغر زارعان" نے اتوار کے روز ملک کے شمالی شہر مشہد میں جوہری صنعت کی نئی کامیابیوں سے متعلق منعقدہ نمائش کی افتتاحی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ سے پہلے ہم صرف 5 مختلف سنٹری فیوجز کی پیدواری صلاحیت رکھتے تھے لیکن اب ہم سینٹری فیوج کی پانچ نسلوں کے ڈیزائن اور تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو سب ملکی ساختہ ہیں اور بوشہر جیسے بجلی گھر کے لئے 27 ٹن افزودہ یورنیم تیار کرنے کی ملک کی ضرورت پر مبنی ہیں۔
ایرانی صدر کے معاون خصوصی کا کہنا ہے کہ اصفہان کا یو ایف سی پلانٹ سال کے اختتام سے قبل جزوی طور پر چل رہا تھا ، لیکن رواں سال کے دوران، اس کے بنیادی ڈھانچے کی از سر نو تعیمر کی گئی ہے اور اب وہ ماہرین اور نوجوانوں کی مہارت اور عزم کیساتھ ملک میں ہر طرح کے جوہری ایندھن کی ڈیزائننگ اور تیاری کی ٹیکنالوجی کو مقامی بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔
زارعان نے کہا کہ فی الحال یورینیم کی پیداوار یومیہ 10 کلوگرام ہے جبکہ جوہری معاہدے سے پہلے ہم یومیہ 7.5 کلوگرام سے کم تیار کرتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اراک ہیوی واٹر پاور پلانٹ، ایران میں پہلے اور واحد بھاری پانی بنانے والا پاور پلانٹ ہے جس نے پرامن جوہری توانائی کے استعمال کے لئے ملک کی ضروریات کو پورا کیا ہے اور یہ اسلامی انقلاب کے بعد قابل فخر کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
زارعان نے کہا کہ اراک جوہری پاور پلانٹ کا سنگ بیناد گزشہ 16 سالوں پہلے رکھا گیا جس میں 2007ء میں ہیوی واٹر کے پہلے بوندوں کا تیار کیا گیا۔
/129
3 فروری 2020 - 04:39
News ID: 1007309
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت کے معاون خصوصی نے جوہری صنعت کو ایرانی طاقت کا ایک اہم جز قرار دے د یا۔